Genesis Chapter 3
پیَدایش
باب:
صوفیہ عقیل گل
پیَدایش
3:1 سانپ کُل دشتی جانوروں سے جِنکو خُداوند خُدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اُس نے
عَورت سے کہا کیا واقِعی خُدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخَت کا پھل تم نہ کھانا؟
۔۔
پیَدایش
3:2 عَورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں ۔ ۔
پیَدایش
3:3 پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُسکے پھل کی بابت خُدا نے کہا ہے کہ تُم نہ تو اُسے
کھا نا اور نہ چھُونا ورنہ مر جاؤ گے ۔ ۔
پیَدایش
3:4 تب سانپ نے عَورت سے کہا کہ تُم ہر گز نہ مرو گے۔
پیَدایش
3:5 بلکہ خُدا جانتا ہے کہ جس دِن تم اُسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کُھل جائینگی اور
تُم خُدا کے مانِند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔
پیَدایش
3:6 عَورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خُوشنما معلوم ہوتا
ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُسکے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوَہر
کو بھی دِیا اور اُس نے کھایا۔
پیَدایش
3:7 تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور اُنکو معلوم ہُوا کہ وہ ننگے ہیں اور اُنہوں نے
انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لِئے لُنگیاں بنائیں۔
پیَدایش
3:8 اور اُنہوں نے خُداوند خُدا کی آواز جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا سُنی اور آدمؔ
اور اُسکی بیوی نے آپ کو خُداوند خُدا کے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپایا ۔
پیَدایش
3:9 تب خُداوند خُدا نے آدمؔ کو پُکارا اور اُس سے کہا کہ تُوں کہاں ہے؟ ۔
پیَدایش 3:10 اُس نے کہا میں نے باغ میں تیری آواز سُنی اور میں ڈرا کیونکہ میں ننگا تھا اور میں نے اپنے آپ کو چھپایا ۔۔
پیَدایش 3:11 اُس نے کہا تجھے کس نے بتایا کہ تُو ننگا ہے ؟ کیا تُو نے اُس درخت کا پھل کھایا جِسکی بابت میں نے تجھکو حُکم
دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا؟۔
پیَدایش
3:12 آدمؔ نے کہا جِس عورت کو تُو نے میرے ساتھ کیا ہے اُس نے مجھے اُس درخت کا پھل
دِیا اور میں نے کھایا ۔ ۔
پیَدایش
3:13 تب خُدا وند خُدا نے عَورت سے کہا کہ تُو نے یہ کیا کِیا ؟ عَورت نے کہا کہ سانپ
نے مجھکو بہکایا تو میں نے کھایا۔۔
پیَدایش
3:14 اور خُداوند خُدا نے سانپ سے کہا اِسلئے کہ تُونے یہ کیا تُو سب چوپایوں اور دشتی
جانوروں میں ملعوُن ٹھہرا ۔ تُو اپنے پیٹ کے بل چلیگا اور اپنی عمُر بھر خاک چاٹیگا۔۔
پیَدایش
3:15 اور مِیں تیرے اور عَورت کے درمیان اور تیری نسل اور عَورت کی نسل کے درمیان عداوت
ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کُچلیگا اور تُو اُسکی ایٹری پر کاٹیگا۔۔
پیَدایش
3:16 پھر اُس نے عَورت سے کہا کہ میں تیرے دردِحمل کو بہت بڑھاؤنگا ۔ تُو درد کے ساتھ
بچے جنیگی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کریگا ۔۔
پیَدایش
3:17 اور آدمؔ سے اُس نے کہا چُونکہ تُو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اُس درخت کا
پھل کھایا جِسکی بابت میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا اِسلئے زمین تیرے سبب
سے لعنتی ہُوئی ۔ مشقّت کے ساتھ تُو اپنی عُمر بھر اُسکی پَیداوار کھائیگا ۔۔
پیَدایش
3:18 اور وہ تیرے لِئے کانٹے اور اُونٹکٹارے اُگائیگی اور تُو کھیت کی سبزی کھائیگا
۔۔
پیَدایش
3:19 تُو اپنے مُنہ کے پسینے کی روٹی کھائیگا جب تک کہ زمین میں تُو پھر لوٹ نہ جائے
اِسلئے کہ تُو اُس سے نِکالا گیا ہے کیونکہ تو خاک ہے اور خاک میں پھر لوٹ جائیگا
۔ اور آدمؔ نے اپنی بیوی کا نام حّواؔ رکھا اِسلئے کہ وہ سب زِندوں کی ماں ہے۔ ۔
پیَدایش
3:20 اور خُداوند خُدا نے آدمؔ اور اُسکی بیوی کے واسطے چمڑے کے کُرتے بنا کر اُنکو
پہنائے۔ ۔
پیَدایش
3:21 اور خُداوند خُدا نے کہا دیکھو اِنسان نیک و بد کی پہچان مین ہم میں سے ایک کی
مانِند ہو گیا ۔ اب کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی
کُچھ لیکر کھائے اور وہ ہمیشہ جیتا رہے۔
پیَدایش
3:22 اِسلئے خُداوند خُدا نے اُسکو باغِ عدنؔ سے باہر کر دیا تا کہ وُہ اُس زمین کی
جس میں سے وہ لیا گیا تھا کھیتی کرے۔
پیَدایش
3:23 چنانچہ اُس نے آدمؔ کو نِکال دیا اور باغِ عدنؔ کے مشِرق کی طرف کروبیون کو اور
چوگرد گُھومنے والی شعلہ زن تلوار کو رکھّا کہ وہ زندگی کے درخت کی راہ کی حِفاظت کریں۔
پیَدایش
3:24 -
Genesis
Chapter 3
- 1.
Now the serpent was more subtil than any beast of the field which
the LORD God had made. And he said unto the woman, Yea, hath God said, Ye shall
not eat of every tree of the garden?
- 2.
And the woman said unto the serpent, We may eat of the fruit of the
trees of the garden:
- 3.
But of the fruit of the tree which is in the midst of the garden,
God hath said, Ye shall not eat of it, neither shall ye touch it, lest ye die.
- 4.
nd the serpent said unto the woman, Ye shall not surely die:
- 5.
For God doth know that in the day ye eat thereof, then your eyes
shall be opened, and ye shall be as gods, knowing good and evil.
- 6.
And when the woman saw that the tree was good for food, and that it
was pleasant to the eyes, and a tree to be desired to make one wise, she took
of the fruit thereof, and did eat, and gave also unto her husband with her; and
he did eat.
- 7.
And the eyes of them both were opened, and they knew that they were
naked; and they sewed fig leaves together, and made themselves aprons.
- 8.
And they heard the voice of the LORD God walking in the garden in
the cool of the day: and Adam and his wife hid themselves from the presence of
the LORD God amongst the trees of the garden.
- 9.
And the LORD God called unto Adam, and said unto him, Where art
thou?
- 10.
And he said, I heard thy voice in the garden, and I was afraid,
because I was naked; and I hid myself.
- 11.
And he said, Who told thee that thou wast naked? Hast thou eaten of
the tree, whereof I commanded thee that thou shoulders not eat?
- 12.
And the man said, The woman whom thou gavest to be with me, she
gave me of the tree, and I did eat.
- 13.
And the LORD God said unto the woman, What is this that thou hast
done? And the woman said, The serpent beguiled me, and I did eat.
- 14.
And the LORD God said unto the serpent, Because thou hast done
this, thou art cursed above all cattle, and above every beast of the field;
upon thy belly shalt thou go, and dust shalt thou eat all the days of thy life:
- 15.
And I will put enmity between thee and the woman, and between thy
seed and her seed; it shall bruise thy head, and thou shalt bruise his heel.
- 16.
Unto the woman he said, I will greatly multiply thy sorrow and thy
conception; in sorrow thou shalt bring forth children; and thy desire shall be
to thy husband, and he shall rule over thee.
- 17.
And unto Adam he said, Because thou hast hearkened unto the voice
of thy wife, and hast eaten of the tree, of which I commanded thee, saying,
Thou shalt not eat of it: cursed is the ground for thy sake; in sorrow shalt
thou eat of it all the days of thy life;
- 18.
Thorns also and thistles shall it bring forth to thee; and thou
shalt eat the herb of the field;
- 19.
In the sweat of thy face shalt thou eat bread, till thou return
unto the ground; for out of it wast thou taken: for dust thou art, and unto
dust shalt thou return.
- 20.
And Adam called his wife's name Eve; because she was the mother of
all living.
- 21.
Unto Adam also and to his wife did the LORD God make coats of
skins, and clothed them.
- 22.
And the LORD God said, Behold, the man is become as one of us, to
know good and evil: and now, lest he put forth his hand, and take also of the
tree of life, and eat, and live for ever:
- 23.
Therefore the LORD God sent him forth from the garden of Eden, to
till the ground from whence he was taken.
- 24.
So he drove out the man; and he placed at the east of the garden of
Eden Cherubim’s, and a flaming sword which turned every way, to keep the way of
the tree of life.
God bless you dear sophi
ReplyDelete